خلافت عثمانیہ میں شادی کے قوانین

Please follow and like us:
onpost_follow 12

عثمانی خلافت میں عائلی قوانین اور خاص کر شادی کا قانون بہت زبردست تھا۔ اکتوبر 1922 میں جس قانون کا اجرا کیا گیا اس کی چند شقیں نظر سے -گزری جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے

۱ ۔ شادی کی عمر 18 سال ہے، 25 سال کی عمر تک جس نے شادی نہیں کی ریاست اس کو شادی پر مجبور کرے گی۔
۲ ۔ جو شخص کسی بیماری کا بہانہ کر کے 25 سال کے بعد بھی شادی نہ کرے تو ریاست اس کا میڈیکل چیک اپ کرے گی اگر قابل علاج بیماری ہو تو اس کا علاج کیا جائے گا اگر ناقابل علاج ہو تب اس کا عذر قبول کیا جائے گا۔
۳ ۔ بغیر کسی عذر کے جو شخص 25 سال کی عمر کے بعد بھی شادی نہ کرے تو اس کو اپنے آمدن کا 25 ٪ ریاست کو دینا ہو گا جس کو ان لوگوں پر خرچ کیا جائے گا جو شادی تو کرنا چاہتے ہیں مگر پیسوں کی ضرورت ہے۔
۴ ۔ جو بھی شخص 25 سال کی عمر کے بعد بھی غیر شادی شدہ ہو وہ کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیے نااہل ہو گا اگر پہلے سے ملازم ہو برطرف کیا جائے گا۔
۵ ۔ ہر وہ شخص جس کی عمر 50 سال سے اوپر ہو اور وہ صحتمند اور تندرست ہواور ایک ہی شادی کی ہواور مالی لحاظ سے بھی دوسری شادی کے قابل ہو تو اس کو دوسری شادی کی ذمہ داری دی جائے گی تاکہ وہ معاشرے کی ضروریات کو پورا کرنے میں کردار ادا کرے اگر وہ بلاوجہ دوسری شادی سے انکار کرے تو ایک سے تین فقراء کی کفالت کی ذمہ داری اس پر ڈال دی جائے گی۔

اس وقت کے حکمرانوں کو معلوم تھا کے معاشرے سے زنا کو ختم کرنے کا واحد راستہ نکاہ ہے۔

۶ ۔ جو شخص 18 سے 25 سال کی عمر کے دوران شادی کرے اور وہ مالی لحاظ سے کمزور ہو تو ریاست اس کو اس کے گھر سے قریب تر جگہ میں 150 سے 300 “دونم”تک زمین مفت دے گی، ایک دونم 900 میٹر ہو تا ہے۔
۷ ۔ اگر وہ کوئی ہنر مند یا صنعت کار ہو تو اس کو زمین کی بجائے 100 عثمانی لیرہ بلاسود تین سال کے لیے قرضہ دیا جائے گا۔
۸ ۔ جو شخص 25 سال سے کم عمر میں شادی کرے اور اس کا کوئی اور تندرست بھائی بھی نہ ہو جو والدین کی خدمت کرتا ہو تو اس کو عسکری خدمت سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا، اسی طرح جس لڑکی کی شادی ہو جائے اور اس کے والدین کی خدمت کرنے والا کوئی نہ ہو تو اس کے شوہر کو عسکری خدمت سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔
۹ ۔ ہر وہ شخص جو 25 سال سے کم عمر میں شادی کرے اور اس کے تین بچے بھی ہو جائیں تو ان کی تعلیم کا تمام خرچہ سرکار کا ہو گا اگر تین سے زیادہ ہوں تو تین کو مفت تعلیم باقی کو 13 سال کی عمر تک دس لیرہ ملے گا، جس عورت سے چا ر بیٹے پیدا ہوں اس کو اعزای 20 لیر ہ دیا جائے گا۔
۱۰ ۔ جو شخص ریاست کے اندر یا باہر کہیں بھی تعلیم مکمل کرنے میں مصروف ہو اور شادی کو موخر کرنے کی درخواست کرے تو اس کو تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
۱۱ ۔ جو شخص کسی بھی کام کے لیے بیرونی سفر پر جائے تو اپنی بیوی کو ساتھ رکھے گا ورنہ اس کو منا کرجائے گا اور اس ملک میں دوسری شادی کرے گا واپس آکر دونوں بیویوں کو ساتھ رکھے گا.

ان سنہری اصولوں پر آج بھی عمل کر کے معاشرے سے زنا جسی برائی کا خاتمہ کیا جا سکتا ھے۔


Please follow and like us:
onpost_follow 12

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of